ہارٹ اٹیک کی صُورت میں 100 روپئے سے کم کا فرسٹ ایڈ باکس جو ہر گھر میں ہونا چاہیے






پاکستان میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ
 ہارٹ اٹیک اور دل کی بیماریاں ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مُطابق پاکستان میں دل کی بیماریوں سے مرنے والوں کی نسبت 2.76 فیصد ہے یعنی تقریباً ہر دس میں سے تین افراد اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اس بیماری کی سب بڑی وجہ ناقص خوراک، ورزش کا فُقدان اور غُربت اور دماغی ٹینشن ہے لیکن اس سے بھی بڑی وجہ وقت پر علاج کا نہ ہونا ہے کیونکہ دل کے ہسپتال شہروں میں ہیں اور پاکستان کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اور دل کا دورہ پڑنے کے بعد مریض کو ہسپتال پہنچتے پہنچتے اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ ڈاکٹر پھر اُس کے لیے کُچھ نہیں کر پاتے۔

اس آرٹیکل میں فرسٹ ایڈ یعنی ابتدائی طبی امداد میں دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں فوری طور پر کیا کرنا چاہیے تاکہ مریض کے دل کو ہسپتال پہنچتے پہنچتے کم سے کم نقصان ہو ذکر کیا جائے گا اور اس ابتدائی طبی امداد کے لیے جن ادویات کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر گھر میں ہونی چاہیے اور آپ 100 روپئے سے بھی کم پیسوں میں ان ادویات کو اپنے فرسٹ ایڈ میڈیکل باکس میں خرید کر رکھ سکتے ہیں۔



اگر کوئی فرد کارڈیک اریسٹ میں مبتلا ہو رہا ہے یعنی اُسے ہارٹ اٹیک آ رہا ہے تو ایسے فرد کو فوری طور بلا کسی تاخیر کے ہسپتال پہنچانا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن ہسپتال پہنچتے پہنچتے اگر تھوڑا سا وقت زیادہ لگ جائے تو مریض کی جان خطرے میں چلے جاتی ہے اس لیے ایسے کسی بھی موقع پر ہسپتال لیجاتے ہُوئے ڈسپرین کی ایک گولی مریض کو دانتوں سے پیس کر کھانے کو دیں۔
ڈسپرین دینے کے بعد دوسری گولی اینجی سڈ کی مریض کی زُبان کے نیچے رکھیں، یہ دونوں گولیاں یعنی ڈسپرین اور اینجی سڈ آپکو کسی بھی فارمیسی سے 3 روپئے سے بھی کم پیسوں میں مل جائیں گی اس لیے انہیں ہر وقت اپنی جیب میں گاڑی میں اور گھر میں ضرور رکھیں۔

ان گولیوں کے ساتھ اپنے فرسٹ ایڈ باکس میں فارمیسی سے ایک دل کے اوپر لگانے والا پیچ یعنی پٹی ملتی ہے جسکا نام ڈیپونٹ 5 ہے (Deponit 5 Patch) یہ پیچ عام طور پر 45 روپئے میں دستیاب ہو جاتا ہے اسے فوراً دل کے اوپر بغل کے قریب کر کے لگا دیں اور مریض کو ہسپتال پہنچائیں، اس ابتدائی طبی امداد سے مریض کے دل کو ہسپتال پہنچتے پہنچتے کم سے کم نقصان ہوگا اور ڈاکٹرز کو مریض کی جان بچانے کے لیے وقت مل جائے گا۔

 یاد رکھیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے “جس نے کسی ایک انسان کی بھی جان بچائی اُس نے ساری انسانیت کو بچا لیا”۔