نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس ٹیم نے ایٹمی تجربات کے لئے زیر زمین سرنگیں کھودنے کیلئے مناسب جگہ کی نشاندہی کرنے کیلئے تین دن کئی کئی گھنٹے‘ بغیر آرام کیے آواران، خضدار اور خاران کا زمینی اور فضائی جائزہ لیا اور بالآخر چاغی کے کوہِ راس میں 185 میٹر بلند گرینائٹ کے پہاڑوں میں جگہ کا انتخاب کیا۔ ڈاکٹر اشفاق کی ٹیم کا دوسرا ٹاسک اس علاقے کا Verticle سروے تھا جس پر ایک سال لگ گیا، اب سرنگ کھودنے کے لئے ایسے پہاڑی سلسلے کا انتخاب درپیش تھا جو کم ازکم 700 فٹ تک بلند پہاڑ ہو کیونکہ 20 کلو ٹن ایٹمی مواد کا تجربہ کیا جانا تھا۔افواجِ پاکستان کے مایہ ناز انجینئرز 1979ء میں اس مقصد کے لئے 3325 فٹ طویل Fish hook سے مشابہ سرنگ کھودنے میں کامیاب ہو گئے جو 8 فٹ ڈائیا میٹر کی تھی جبکہ خاران میں جو دوسری سرنگ کھودی گئی وہ 200×300 فٹ کی Length شکل میں تھی۔ اب یہ سب کام جنرل ضیاء الحق کی نگرانی میں پاک فوج کا ایک ”سپیشل ڈویلپمنٹ ورکس‘‘ یونٹ کر رہا تھا جس کے ذمہ پہاڑوں میں زیر زمین عمودی اور افقی دو اقسام کی ٹیسٹ سائٹس تیار کرنا تھا، جنہیں صرف سات دن کے نوٹس پر ایٹمی تجربوں کیلئے استعمال کیا جا سکے‘‘۔ (بحوالہ ڈیفنس نوٹس‘ تحریر: رائے محمد صالح اعظم)بہت سی باتیں ایسی ہیں‘ جو احاطہ تحریر میں نہیں لا سکتا، وگرنہ وہ بھی آئینے کی صورت میں شہباز شریف کے سامنے رکھ دیتا تاکہ ان کی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے آئے روز ایٹمی ہتھیار کی تیاری کے حوالے سے کیے جانے والے بے بنیاد دعووں کے پول کھول سکتا۔ اگر وہ پھر بھی بضد ہیں تو بس اتنا سنتے جائیں کہ مارچ 1984ء میں جب ”آمر اور جمہوریت دشمن جنرل ضیاء الحق‘‘ کی حکومت تھی، پاکستان ایٹمی تجربوں کا ایک کولڈ ٹیسٹ کر چکا تھا۔جناب شہباز شریف نے چھ اگست کو آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ نواز کے حکومتی وزراء کی معیت میں کھڑے ہو کر بھارت کی دلجوئی کی خاطر اپنے مخصوص انداز میں میز پر ہمیشہ کی طرح ایک زبردست مکا مارتے ہوئے کہا کہ ”جادو ٹونے اور لمبی لمبی چھوڑنے سے کشمیر آزاد نہیں ہو تا‘‘ بالکل درست فرمایا ہے کیونکہ 1985ء سے 2018ء تک آپ نے کشمیر کی آزادی کے لئے لمبی لمبی چھوڑنے کے بجائے ہمیشہ کے لئے یہ قصہ تمام کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی سرحدوں کو فقط لکیر کا نام دیا۔ آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم میں اور ”ان‘‘ میں کوئی فرق ہی نہیں… تو جناب فرق کیوں نہیں؟ ہم گائے کا گوشت کھانے والے ہیں اور وہ گائو موتر پینے والے۔ اب آپ ہی فیصلہ کیجئے گائے کا گوشت کھانے والے اور اس کا موتر پینے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟
ریکارڈ طلب : یتیم خانوں میں موجود لڑکیوں کی شادیاں کس طرح کی جاتی ہیں ؟ ہوش اڑا دینے والے انکشافات
کراچی(ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام یتیم خانوں کے مراکز کے معاملات کی تحقیقات کرے اور وہاں یتیموں کی شادیوں سے متعلق ان کے ریکارڈ کی جانچ کرے۔جسٹس صلاح الدین پنہور کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیاکہ یتیم خانے کے مرکز میں رہائش پذیر نوجوان لڑکیوں کی شادیاں ان کی رضامندی کے بغیر کی جا رہی ہیں اور اس طرح کی شادیوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ برقرار نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ شادی شدہ لڑکیوں کی موجودہ حیثیت کا پتا لگائیں اور یہ بھی معلوم کریں کہ شادی کے لیے کیا ان لڑکیوں کی رضامندی لی گئی ہے، انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اس بات کا بھی پتا لگایا جائے کہ آیا یہ شادیاں جائز ہیں یا نہیں اور کہیں اس میں مجرمانہ فعل یا انسانی اسمگلنگ کا تو کوئی امکان موجود نہیں۔بنچ نے کہا کہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی کارروائی کی صورت میں تمام ذمہ دار لوگوں کو کام میں لینا چاہیے جبکہ ایف آئی اے انہیں اپنانے یا گود لینے کے طریقہ کار کی بھی جانچ کرے۔انہوں نے چیف سیکریٹری کو یہ ہد...

