ریکارڈ طلب : یتیم خانوں میں موجود لڑکیوں کی شادیاں کس طرح کی جاتی ہیں ؟ ہوش اڑا دینے والے انکشافات
کراچی(ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ کے بینچ نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام یتیم خانوں کے مراکز کے معاملات کی تحقیقات کرے اور وہاں یتیموں کی شادیوں سے متعلق ان کے ریکارڈ کی جانچ کرے۔جسٹس صلاح الدین پنہور کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیاکہ یتیم خانے کے مرکز میں رہائش پذیر نوجوان لڑکیوں کی شادیاں ان کی رضامندی کے بغیر کی جا رہی ہیں اور اس طرح کی شادیوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ برقرار نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ شادی شدہ لڑکیوں کی موجودہ حیثیت کا پتا لگائیں اور یہ بھی معلوم کریں کہ شادی کے لیے کیا ان لڑکیوں کی رضامندی لی گئی ہے، انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اس بات کا بھی پتا لگایا جائے کہ آیا یہ شادیاں جائز ہیں یا نہیں اور کہیں اس میں مجرمانہ فعل یا انسانی اسمگلنگ کا تو کوئی امکان موجود نہیں۔بنچ نے کہا کہ کسی بھی طرح کی غیر قانونی کارروائی کی صورت میں تمام ذمہ دار لوگوں کو کام میں لینا چاہیے جبکہ ایف آئی اے انہیں اپنانے یا گود لینے کے طریقہ کار کی بھی جانچ کرے۔انہوں نے چیف سیکریٹری کو یہ ہد...
